مسلسل بحرانوں سے دوچار پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس وقت ایک اور خلاف ورزی سرزد ہوگئی جب اس نے 15جولائی کو اعلان کیا کہ آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کے لیے منتخب شدہ 30 ممکنہ کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ اختتام ہفتہ لیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسیWADA کے تصدیق شدہ افسراور سپورٹس میڈیسن کے پاکستانی ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر نے برونائی سے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پی سی بی کا ڈوپ ٹیسٹ کے لیے پیشگی اعلان واڈا قوائد کی خلاف ورزی ہے جس کے دوررس مضمرات ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پیشگی اطلاعات کی صور ت میں ممنوعہ ادویات استعمال کرنے والے کھلاڑی کویہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ ایسی مزید ادویات استعمال کر سکے جوممنوعہ اجزاء کو خفیہ رکھنے کا کام کرتی ہیں جنہیں ماسکنگ ایجنٹ بھی کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر دانش ظہیر نے مزید کہا کہ ڈوپنگ ٹیسٹ کے لیے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی جانی چاہیے، اور اگر پیشگی اطلاعات دینا ضرور ی ہو تواس اطلاع کے ایک گھنٹے کے اندر اندر کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ لے لیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ واڈا قوائد کی خلاف ورزی ہو گی۔ جس کا فائدہ بعد میں ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے کھلاڑی حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام شدہ کھلاڑی یہ کہہ سکتا ہے کہ کیونکہ پی سی بی نے ڈوپ ٹیسٹ کی پیشگی اطلاع دی تھی لہذا ممکن ہے کہ کسی نے اس کھلاڑی کو ٹیم سے باہر رکھنے کے لیے ممنوعہ اجزاء اْسے بتائے بغیر اْس کے کھانے پینے کی اشیاء میں شامل کردی ہوں تاکہ و ہ ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔