صوبائی دارالحکومت کے معروف کاروباری مرکز منان چوک پر جمعہ کی صبح ایک دھماکے میں کم از کم ایک کمسن بچی ہلاک اور 13 افراد زخمی ہوئے ۔زخمیوں میں ٹریفک پولیس کے پانچ اہلکار بھی شامل ہیں ۔ پولیس کے ضلعی سربراہ محمد اکبر آرائیں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بم ایک موٹر سائیکل پر نصب تھا جو ایک پرائیویٹ بینک کے سامنے سڑک کے کنارے کھڑی کی گئی تھی ۔ انہوں نے دھماکے کی ذمہ داری مسلح عسکریت پسند گروہوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر موٹر سائیکل اور سائیکل کی تلاشی لی جا سکے ۔دھماکہ سے قریب عمارتوں، بینکوں اور دکانوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور بعض گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
منان چوک کا علاقہ شہر کے وسط میں مصروف کاروباری مرکز ہے تاہم جمعہ کے باعث زیادہ تر ادارے بند تھے جس کی وجہ سے کم جانی نقصان ہوا ۔
دھماکہ کے بعد زخمیوں کو قریبی سرکاری ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تین کی حالت تشویش ناک بتائی ہے۔بعض عینی شاہدوں اور زخمیوں نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد وہاں موجود دوسرے پولیس اہلکاروں نے زخمی ٹریفک اہلکاروں کو ہسپتال پہنچانے میں تیزی دکھائی جبکہ عام زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ایک گھنٹہ تک ایدھی کی ایمبولینسوں کا انتظارکیا جاتا رہا ۔
واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی جبکہ ڈی آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے شہر سے باہر جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے ۔یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جمعرات کو امن و امان سے متعلق ایک اعلی سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے تشدد کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کو اضافی اختیارات بھی تفویض کئے اور حکم دیا کہ شہر میں پولیس کا گشت بڑھایا جائے ۔ وزیر ا اعلی نے پولیس کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے جمعرات کو شہر کا اچانک دورہ بھی کیا تھا ۔