 |
| رحمن ملک |
وفاقی وزارت داخلہ کے سربراہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی پر بیرونی مداخلت اور ڈکٹیشن ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلاف رائے اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام کاروائیاں حکومت اپنی وضع کردہ پالیسی کے تحت کررہی ہے کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اس سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور ساتھ ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ وزارت داخلہ کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاک افغان سرحد پر طالبان عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے پاکستان سےمئوثر کاروائیاں کرنے پر زور دیا ہے جبکہ جمعرات کے روز کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور افغان صدر حامد کرزئی نے بھی کچھ ایسے ہی مطالبات دہرائے ۔ اس کے علاوہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 28جولائی کو وائٹ ہاؤس میں صدر بش اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین ہونے والی ملاقات میں فاٹا کے علاقوں میں ہونے والی طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں اور پاک افغان سرحد پر دراندازوں کو روکنے کے حوالے سے پاکستانی کوششوں پر بات چیت ایجنڈے میں سر فہرست ہوگی۔
 |
| پاک افغان سرحد پر تعینات پاکستانی فوجی |
مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی اس ملاقات سے دو روزقبل دیے گئے اس بیان میں بظاہر یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کو جاری رکھے گا جس میں معاملات کو طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا سرفہرست ہے۔ رحمن ملک نے ایک بار پھر کہا ہے کہ حکومت سوات میں عسکریت پسندوں اور صوبائی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا احترام کرتی ہے لیکن اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تواس کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر عسکریت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر امن کے عمل میں شامل ہوجائیں۔ جمعہ کو صحافیوں سے اپنی بات چیت میں رحمن ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ملک میں خودکش حملوں کے واقعات میں کافی حد تک کمی ہوگئی ہے جبکہ فاٹا میں بھی امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہنگومیں آپریشن کے دوران ایک اہم طالبان کمانڈر سمیت 35عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔