انٹرنیشنل براڈ کاسٹر

شہنازعزیز نے ریڈیو پروگراموں میں شرکت کا آغاز بچوں کے پروگرام سے کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے بہت سے ڈرامے اور فیچر لکھے ،جن میں سے کچھ کراچی ریڈیو کے معروف پروگرام ’’ اسٹوڈیو نمبر نو” سے نشر ہوئے۔ بعد میں انہوں نے خود بھی اسی اسٹوڈیونمبر نو سے ڈرامے پروڈیوس کیے۔ پاکستان میں بہت سے سننے والوں کو ان کی طویل سیریل مسافر، راستے اور منزلیں یادہے جسے فاطمہ ثریا بجیا نے تحریر کیا تھا اور جسے متعدد ایوارڈز ملے۔ وی او اے میں شہناز کو اپنے سننے والوں سے ملنے یا کوریج کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں میں سفر کا موقع ملا، جن میں پاکستان کے علاوہ، بھارت، نیپال، مصر، اور خلیج کی ریاستیں شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک سفر ، جس کی یاد اب بھی ان کے لیے تکلیف دہ ہے، وہ تھا 2005ء میں زلزلے سے پہلے شمالی علاقوں کا سفر۔ جہاں بالاکوٹ میں انہوں نے بہت سے خوش با ش بچوں کے انٹرویوز کیے تھے۔ اور جب 2006ء میں وہ دوبارہ وہاں گئیں تو وہ زندہ شہر ایک کھنڈر بن چکا تھا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس سفر نے انسان کے حوصلے کے بارے میں میرے یقین کو اور بھی بڑھا دیا کیونکہ وہاں رہنے والے ناامید نہیں تھے۔ شہناز عزیز نے زندگی کے بہت سے شعبوں میں اول پوزیشن حاصل کی ہے جن میں ادب میں ماسٹرز سے لے کر پاکستان اور ہالینڈ میں پروڈکشن کے کورسز اور وائس آف امریکہ سے language broadcaster of the year کا ایوارڈ بھی شامل ہے جو پہلی بار جنوبی ایشیا کے کسی براڈکارسٹر کودیا گیاتھا۔ شہنازعزیز نے وی او اے سے اپنے پروگراموں کے لیے درجنوں، غالباً کسی واحد براڈکاسٹر سے زیادہ ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ ان ایوارڈز کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان کے لیے مقابلہ انگریزی سمیت مختلف زبانوں سے نشر کیے جانے والے پروگراموں کے درمیان ہوتا ہے۔ ان ایوارڈز میں سے شہناز عزیز کو وہ ایوارڈ بہت عزیز ہیں جو انسانی حقوق یا پولیو کے انسداد کے بارے میں ان کے پروگراموں پر دیے گئے تھے۔ کیونکہ بقول ان کے’’ یہ اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش میں میری آواز بھی شامل ہے‘‘۔